نئی دہلی،7؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) بابری مسجد پر فیصلہ سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے بیان جاری کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ آخر کیوں مسلمان بابری سے دستبردار نہیں ہو سکتے اور اگر ہو گئے تو اس کے بعد کیا مسائل پیدا ہوں گے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے غیر مصدقہ فیس بک پیج پر ایک اور بیان جاری کر کے کہا گیا ہے کہ مسلمان بابری مسجد سے کسی بھی صورت میں دستبردار نہیں ہو سکتے اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر اس ملک کی دیگر مساجد اور قبرستان تک کو اپنے قبضے میں لینی کی کوششیں ہوں گی۔
بیان میں کہا گیا، ’’کچھ لوگ ملک میں امن و سلامتی کے نام پر مسلمانوں کو بابری مسجد سے دستبردار ہونے کو کہہ رہے ہیں۔ صوبائی عدالت کے فیصلہ میں جس اصول کو بنیاد بنایا گیا ہے وہ اصول اگر عدالت کا تسلیم شدہ اصول قرار دیا گیا تو بابری مسجد جس کشمکش اور خطرہ میں مبتلا ہے، اس خطرہ میں ملک کی سینکڑوں مساجد آجائیں گی، کیونکہ اکثریت کے فرقہ پرور ملک کی درجنوں مسجدوں پر اپنا مطالبہ پہلے سے کرتے آرہے ہیں‘‘
بیان میں کہا گیا، ’’کچھ لوگ ملک میں امن و سلامتی کے نام پر مسلمانوں کو بابری مسجد سے دستبردار ہونے کو کہہ رہے ہیں۔ صوبائی عدالت کے فیصلہ میں جس اصول کو بنیاد بنایا گیا ہے وہ اصول اگر عدالت کا تسلیم شدہ اصول قرار دیا گیا تو بابری مسجد جس کشمکش اور خطرہ میں مبتلا ہے، اس خطرہ میں ملک کی سینکڑوں مساجد آجائیں گی، کیونکہ اکثریت کے فرقہ پرور ملک کی درجنوں مسجدوں پر اپنا مطالبہ پہلے سے کرتے آرہے ہیں‘‘